ممبئی، 9؍ ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں گذشتہ 15سالوں سے قید وبند کی صعوبتیں جھیلنے والا جوگیشوری ممبئی کا بے گناہ نوجوان عبدالرحمن ولد عبدالغفار جسے 6مارچ 2006 گلبرگہ سے اے ٹی ایس نے گرفتارکیا تھا -جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کی کامیاب جدوجہد اور کوششوں کے نتیجہ میں بالآخر سپریم کورٹ نے آج رہا کرنے کا فیصلہ صادرکردیا ہے-واضح رہے کہ ملزم محمد عبدالرحمن عرف محمد سمیع شاہ کومارچ 2006 میں گلبرگہ سے اے ٹی ایس نے گرفتارکیا تھا اوراس پر دہشت گردی اورملک کے خلاف جنگ وبغاوت کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے قبضے سے دھماکہ خیز اشیاء کی برآمدگی کا دعویٰ کیا تھا -نیز اس کے خلاف تعزیرات ہند اوریواے پی اے کی مختلف ناقابل ضمانت اورقابل مواخذہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا-اس مقدمے کی سماعت ابتداء میں گلبرگہ سیشن کورٹ میں ہوئی جس نے تقریباً چار سال تک سماعت کے بعد جولائی 2010 میں ملزم کو 5 بار عمر قیداورڈیڑھ لاکھ روپئے جرمانے کی سزا دی تھی - سیشن عدالت سے سزا کا تعین ہونے کے بعد ملزم کے والد نے جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب سے رابطہ قائم کیا اوراس مقدمے کی قانونی پیروی کی درخواست کی جس کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کے لیگل سیل کے سکریٹری ایڈوکیٹ تہورخان پٹھان نے سیشن عدالت کے مذکورہ فیصلے کو کرناٹک ہائی کورٹ کے گلبرگہ بنچ میں چیلنج کردیا اوراس مقدمے کی سماعت کے بعد 2017 میں کرناٹک ہائی کورٹ کے گلبرگہ بنچ نے تعزیرات ہند اوردہشت گردی کے تمام الزامات سے بری کردیا تھا اور 4 بار عمر قید کی سزا اورڈیڑھ لاکھ کا جرمانہ بھی معاف کردیا تھا-البتہ گرینڈ اوردھماکہ خیز مادہ ساتھ رکھنے کے الزام میں ایک عمرقید کی سزا برقرار رکھی تھی جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا-آج سپریم کورٹ نے اس کی SLP پر رہائی کاحکم جاری کیا ہے -